+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

سمندری جانوروں کا سرکس

ایک مچھلی کی نظر کمزور تھی، اسے عینک مل گی ۔جب اس نے سر کس کی مچھلیوں کے کہنے پر عینک لگائی تو اسے اچھا لگا ،اب اسے صاف نظر آ رہا تھا۔ جل پریوں نے تو کپڑے اکٹھے کر ڈالے اور گھر سجا کر لگیں نت نئے کپڑے بدلنے اورایک دوسرے کو دکھانے ۔ان میں جو مرد حضرات مچھلیاں تھیں، ان میں سے کسی نے ٹائی باندھی ،کوئی شرٹ ڈالنے لگا، کوئی عینک لگانے لگا اور ان میں بڑی عمر کے تو سگار منہ میں ڈالے آرام دہ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔کیٹ فیش اور ڈوگ فیش آئیس کریم (Ice Cream) کھانے پر لڑنے لگیں۔ چند مچھلیوں کے بچے کاغذ اور پینسل لے کر تصویریں بنانے لگے ۔ایک مچھلی جو سرکس میں گنتی کرتی اور اے ۔بی۔ سی (ABC) تحریر کرتی تھی، سکول کھول کر چھوٹی مچھلیوں کو پڑھانے لگی ۔ مچھلیوں کے بچے بھی خوشی خوشی سکول جانے لگے کیونکہ انہیں پڑھنا اچھا لگنے لگا تھا۔
کچھ مچھلیاں لالچ کر رہی تھیں ،کچھ خوش تھیں اس پر جو انہیں مل گیاتھا ۔ وہیل مچھلیاں تو بڑے بڑے بیڈ پر مزے سے بیٹھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ سب نے سرخی پاؤڈر اور کانٹے ہار ڈالے ہوئے تھے۔ کسی کسی نے ربن(Ribbon) بھی باندھ رکھے تھے۔ سی لاین (Sea Lion) گھر کے باہر جھولے نما کرسیوں میں بیٹھے آیس کریم کھا رہے تھے اور ساتھ میں آنکھوں پر دھوپ کے چشمے لگا رکھے تھے ۔ڈولفن مچھلیاں بھی پیاری پیاری شرارتیں کر رہی تھیں۔ ایک ڈولفن مچھلی کو چھتری مل گئی، وہ چھتری کھول کر ایک جگہ سجائے بیٹھی تھی۔ گھوڑا فیش بھی عینک لگائے، ٹائی باندھے کسی کے انتظارمیں کھڑا تھا۔ شی (She)گھوڑا فیش نے پونیاں بنا رکھی تھیں جوگلے میں رومال اور آنکھوں پر عینک لگائے چڑی چھکہ (Badminton) کھیلتے اچھی لگ رہی تھیں۔
ویسے تو سمندر اپنے قدرتی حسن سے بھرا ہوا ہے مگر جب اسے سب نے اپنے اپنے طریقے سے سجایا تو سمند کی تہہ اور بھی پیاری ہوگی اور جو صدیو ں سے مخلوق وہاں آباد تھی وہ اپنے نئے ساتھیوں کو دیکھ کر حیران ہو ئی اور انہوں نے بھی نئے طور طریقے سیکھ لیئے اور سب مل کر ہنسی خوشی آزاد زندگی بسر کرنے لگے۔پیارے بچو ! آپ بھی آزادی کی قدر کریں اور جو کچھ اللہ نے عطا فرمایا ہے اسے اچھے طریقے سے استعمال کر کے نہ صرف اپنا بھلا کریں بلکہ دوسرے ساتھیوں کے بھی کام آئیں۔

1 2

Leave a Comment

*