+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

صفائی میں خدائی

کسی شہر میں ایک سست عورت اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ جب میاں ساتھ تھا ، تب کبھی کبھی گھر کے کام کاج کر لیا کرتی تھی۔ لیکن پھر اس کا میاں روزگارکے لیئے ملک سے باہر چلا گیا تو اس پر کسی کی روک ٹوک نہ رہی۔ جی میں آیاتوگھر کا کام کر لیا ورنہ لمبی تان کر سوئی ر ہی اور آ ہستہ آ ہستہ بلکل سستی کا شکار ہوگی۔ میاں نے پیسے روانہ کرنا شروع کیے تو نیا ٹیلی ویژن خرید لیا اور تمام دن بیٹھی ٹیلی ویژن پر ڈرامے، فلمیں دیکھتی رہتی ۔بازار سے کھانا منگواتی ،خود بھی کھاتی اور بچوں کو بھی کھلاتی ،باقی بچا کھچا وہیں پڑا رہتا۔ بچے بھی ماں کی دیکھا دیکھی تمام دن ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے رہتے ۔ کھانے پینے کا سامان ادھر ادھر بکھرا رہتا تھا ،چنانچہ گھر سے بو آنے لگی۔
ایک دن ایک چوہا اس گھر آن نکلا ۔اس نے جو دیکھا کہ اتنا کھانے پینے کا سامان بکھرا ہوا ہے،نہ گھر میں صفائی ہے ، نہ ہی کوئی روک ٹوک، وہ بھاگا بھاگا اپنے رشتے داروں کو بلا لایا۔ان میں چند چوہے ایسے تھے، جن کی لڑکیاں جوان تھیں مگر برات کو کھلانے کے لیے راشن نہ تھا ،اس لیئے شادیاں ہو نہیں پا رہی تھیں۔ وہ بھی خوش ہوگے ۔بس پھر کیا تھا۔ہر روز ایک آدھ چوہے کی شادی ہونے لگی جو بکھرے کھانوں پر عیاشی کرنے لگے۔ چوہوں کی تعداد بڑھنے لگی اور وہ موٹے تازے ہونے لگے ۔چند ہی دنوں میں اتنے تیز اور نڈر ہوگئے کہ اگر کوئی انہیں مارنے کے لیے جوتا اٹھاتاتوکاٹ لینے کو دوڑتے۔ عورت اور بچے چوہوں سے خوفذہ رہنے لگے ۔ان کی وجہ سے گندگی بیحد زیادہ ہوگی تھی اور کھانے پینے کا سامان بھی فورا ختم ہونے لگا تھا۔ اور تو اور، چوہے دودھ بھی مزے سے پی جاتے اور بچے دودھ کے بغیر رہ جاتے ۔محلے کے لوگ پہلے ہی اس عورت کی سستی کی وجہ سے اسے ناپسند کرتے تھے مگر اب تو وہ گندی بھی ہوگئی تھی۔خود صفائی کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے کام کرنے والی رکھتی ،مگر کوئی بھی اک پل اسقدر گندے گھر میں رہنا پسند نہ کرتا۔
آخرکار بچے کہیں سے بلی پکڑ لائے، مگر چوہے اتنے دلیر ہو چکے تھے کہ سب نے مل کر بلی کا مقابلہ کیا اورزخمی کر دیا۔ بلی چوہوں سے زخمی ہو کر تمام محلے کی بلیوں کو بتانے گئی۔ چند بلیاں اور آئیں،مگر وہ بھی زخمی ہو کر واپس چلی گئیں ۔ بچے اس صورتحال سے الگ پریشان تھے ۔ ایک بچہ اتنا بیمار ہوا کہ اسے ہسپتال داخل کروانا پڑا ۔چند دنوں بعد دوسرے بچے بھی بیمار ہوگئے ۔ ماں کے لیے مشکل پیش آنے لگی کہ گھر بچوں کی دیکھ بھال کروں یا ہسپتال جاؤں۔ ہوتے ہوتے تین بچے ہسپتال داخل ہوگئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ہم بچوں کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، آگے خدا کی مرضی۔ آپ ماں ہو، خدا سے خلوص دل سے دعا کرو۔
ماں تھی، اپنے بچوں کو یوں دیکھ کر اور ڈاکٹر کے الفاظ سن کر تڑپ اٹھی۔ گھر آئی، وضو کیا اور خدا سے دعا کرنے لگی۔ ساتھ روتی بھی جاتی تھی کہ میں ہی ایسی لا پرواہ ہوئی اور اتنی سستی اور گندگی پھیلی کہ اب بچے بھی موت کے منہ میں ہیں ۔یہ سب میرا ہی کیا دھرا ہے۔ یا اللہ مجھے اب معاف کر دے ۔ میں باقاعدگی سے نماز پڑھونگی اور بچوں کو بھی پڑھوانگی، سستی نہ کرونگی اور صفائی کا خیال رکھوں گی ۔وہ خدا سے معافی مانگتی ،دعا کرتی ہوئی گھر کی صفائی کرنے لگی ،مگر اب ایک دن میں تو گندگی ختم ہونے والی نہ تھی۔

1 2

Leave a Comment

*