+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

سبزیوں کی لڑائی

کہانی کچھ یوں تھی۔ ہری مرچ اور مولی کے درمیان جھگڑا چل رہا تھاجو آ ہستہ آ ہستہ بڑھنے لگا ،تو ہری مرچ اور مولی کا جھگڑا چھڑوانے کے لیے پیاز، ٹماٹر، آلو اور گاجر آگے بڑھے اور لڑائی کی وجہ معلوم کرنے لگے۔ ابھی تک ہری مرچ اور مولی میں تکرار جاری تھی۔ ہری مرچ بولی۔ ذرا مولی کو دیکھو، اپنے آپ پر کتنا ناز کرتی ہے، نخرے دکھاتی ہے ۔ مولی بالی۔ تمہاری طرح ہر وقت سی سی نہیں کرتی۔ نہ خود سکون سے رہتی ہے اورنہ دوسروں کو رہنے دیتی ہے ۔جس کے دانتوں کے نیچے جاتی ہے، وہی سی سی کرنے لگتا ہے۔ ہری مرچ بولی۔ اگر میں نہ ہوتی تو لوگ سالن میں کیا ڈالتے ؟اچار کیسے کھاتے ؟میری وجہ سے سالن کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ مولی بولی۔ مجھے دیکھو !میں لوگوں کا کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتی ہوں، جسم کی گرمی دور کرتی ہوں۔ ہری مرچ بولی۔ رہنے دو،مجھے تو کھا کر لوگ سی سی کرتے ہیں اور تمہیں کھا کر ڈکار مارتے ہیں ،اچھا خاصا پڑھا لکھا مہذب انسان عجیب لگتا ہے۔ مولی بولی ۔ اگر لوگ مجھے کھا کر بعد میں تھوڑا سا گڑ کھا لیں تو انہیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
ان کی باتیں سن کر ٹماٹر سر پر اپنا خوبصورت سا تاج سجائے آیا اور ہری مرچ اور مولی سے بولا ۔ خدا نے ہر سبزی اور ہر پھل میں حیاتین اور وٹامن رکھے ہیں،جن کے کھانے سے انسان تندرست اور صحت مند رہتا ہے ۔مولی کے بے شمار فائدے ہیں۔ اس کا بھی اچار ڈالا جاتا ہے۔ پک جانے پر مولی کے پتوں پر مونگرے لگتے ہیں ،جس کی سبزی بھی مزے دار بنتی ہے اور اچار میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مولی کے پراٹھے بھی بہت مزے دار بنتے ہیں۔ اسی طرح ہری مرچ کے بغیر نہ تو سبزی بن سکتی ہے اور نہ ہی اچار ڈالا جا سکتا ہے۔ اب دیکھو مٹر اور آلو کی طرف۔ ان میں بیشتر نشاستہ اور پانی کے ساتھ ساتھ حیاتین بھی پائے جاتے ہیں ۔یہ دانتوں کا محافظ ہے۔ لوگ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور اسکے چپس (Chips) بچوں اور بوڑھوں دونوں میں یکساں پسند کیے جاتے ہیں۔آلو پہلے ہی گول مول تھا، ٹماٹرکی باتیں سن کر خوشی سے جھوم اٹھا۔ باقی سب آلو کو تعریفی نظروں سے دیکھنے لگے۔
پیاز بولا۔ ٹماٹر بھائی! میرا بھی کوئی فائدہ ہے کہ بس میں لوگوں کو رُلانے کے ہی کام آتا ہوں؟ ٹماٹر بولا۔ کیوں نہیں کیوں نہیں! پیارے دوست پیاز! تمہارے بغیر تو سالن پک ہی نہیں سکتا۔ تم میں خالق کائنات نے جملہ حیاتین کو یکجا کر دیا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں ۔پیاز خوراک کو ہضم کرتا ہے اور بھوک لگانے کا سبب بنتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں اور برسات میں پیاز کا کچومبر، لیموں اور نمک کے ساتھ بیحد اچھا لگتا ہے۔ گرمیوں اور برسات کے دنوں میں اس کا استعمال ہر روز ہوتا ہے ۔ پیاز اپنے بارے میں اتنی خوبیاں جان کر بہت خوش ہوا۔ دوسرے بھی پیاز کو حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہُ رلانے والا پیاز اور اتنی خوبیوں کا مالک ۔سب نے پیاز کو داد دی۔
گاجر شرمائی گھبرائی سی اپنے آپ کو سمبھالتی ہوئی ٹماٹر کے پاس بیٹھ گی اور بولی ۔ ٹماٹر بھائی! آپ کو میرے بارے کچھ معلوم ہو تو بتائیں ،آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ ٹماٹر بولا۔ کیوں نہیں! تم میں کیا کیا گُن ہیں ،شاید تمہیں بھی معلوم نہیں۔ تم میں شکر ، نشاستہ ، چونا ، فاسفورس، فولاد اور بے شمار حیاتین پائے جاتے ہیں۔ تمہیں کھانے سے خون کی کمی دور ہوتی ہے، آنکھوں کی بینائی کو فائدہ ہوتا ہے، لوگ مزے اور شوق سے تمہارا حلوہ ، گجریلا اورمربہ کھاتے ہیں، تم سے میٹھی چیزیں بھی پکائی جاتیں ہیں اور نمکین بھی، اچار میں بھی استعمال کرتے ہیں۔مولی کی طرح تمہیں لوگ دھوکر،نمک مرچ لگا کربھی کھالیتے ہیں اور سِلاد میں بھی استعمال کرتے ہیں ۔ جو غریب لوگ سیب نہیں خرید سکتے انہیں گاجر ضرور کھانی چاہئے۔ گاجر اپنے اتنے گُن سن کر شرماگئی اور سب کی تالیاں سن کر خوشی سے اور سرخ ہو گئی۔

1 2 3

Leave a Comment

*