+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

ننھی ہما کے بہادر ساتھی

جب رات کا ایک ہواتو چار چور خاموشی سے بنگلے میں داخل ہوئے۔ سب کے ہاتھوں میں پستول تھے اور وہ دیکھ بھال کر قدم اٹھاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھنے لگے ۔وہ اتنے سارے جانور دیکھ کر حیران ہوئے مگر یہ دیکھ کر کہ سب جانور خاموشی سے اپنے دھیان میں ہیں ،ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
اچانک ایک ہی وقت میں کئی واقعا ت رونما ہوئے اور رات کا سناٹا چیخ وپکار سے گونج اٹھا۔ لالی جو بظاہر چہل قدمی کرتی نظر آرہی تھی،نے ایک چور کے پاس جا کر اتنے زور سے سینگ مارے کہ اسکے ہاتھ سے پستول دور جا گرا اور وہ خود زمین پر گر کر درد سے تڑپنے لگا۔ اس سے پہلے کہ دوسرے چور سمبھلتے، دوسرے پر مرغا اور مرغی نے جھپٹا مار کر اس کے ہاتھ سے پستول نیچے گرا دیا۔ مرغا اُڑ اُڑکر اس پر چونچ اور پنجے سے حملے کر نے لگا ۔ چور اپنا منہ ہاتھوں میں چھپاکر بیٹھ گیا ۔ تیسرے چور پر موتی نے ایسی دولتی ماری کہ وہ گرتے ہی بے ہوش ہو گیا۔ چوتھے پر بادل نے دولتی جھاڑ دی۔ ناگہانی آفت نے کسی کو بھی سمبھلنے کا موقع نہ دیا۔جام نے سب پستول اکٹھے کئے اور جھاڑیوں میں چھپا دیے اورخود ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ چور سخت گھبرا گئے تھے کیونکہ وہ سب گھیرے میں تھے۔ کبھی موتی کی دولتی پڑھتی تو کبھی بادل ہنہناکر ڈرا دیتا۔ لالی سینگوں کا نشانہ تانے کھڑی تھی۔ مرغا اور مرغی ان کے سروں پر بیٹھے چونچیں مار رہے تھے ۔ مٹھو اور مینا بھی اُڑ اُڑ کر ان پر وار کررہے تھے ۔ چاروں چوربُری طرح زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئے ۔
رات کے تین ہوگئے۔ جب چار بجے تو مینا اور مٹھو اُڑگئے۔ دو ر انہیں پولیس اسٹیش نظر آیا۔ ہما مٹھو اور مینا کو بتایا کرتی تھی کہ پولیس کیسے لوگوں کے کام آتی ہے۔ وہ سیدھے پولیس اسٹیشن گئے ۔مینا کرسی کے اوپر بیٹھ گئی اور مٹھو بھی ۔وہ پولیس والوں سے کہنے لگے کہ مسٹر حسین کے گھر چور گھس آئے ہیں۔ پلیز جلدی چلیں۔ مسٹر حسین کا گھر یہاں سے تھوڑ ی دور ہے اور وہ گھر نہیں ہیں ۔پلیز ہری اپ ۔ پولیس والے ان کی باتوں پر غورکرنے کی بجائے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ عمل نہیں کر رہے تھے۔ ایک پولیس والے نے کہا۔ او۔یار! ان کو پکڑ لوبھئی۔ میں اپنے بچوں کو دے دونگا۔ مٹھو اور مینا سنتے ہی پھر سے اُڑ کر باہر چلے گئے اور ایک درخت پر بیٹھ گئے کہ اب کیا کریں ۔
مینا نے کہا۔ پولیس والوں کو ہم پر یقین نہیں ،چلو واپس چلیں ۔اب ہما بھی صبح کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھ گئی ہو گئی۔ اب وہی کچھ کر لے گی ۔ابھی یہُ اڑے ہی تھے کہ انہیں دور سے ہما کے ابو کی کار آتی نظر آئی۔ انہوں نے غوطہ لگایا اور کار کے ساتھ اُڑنے لگے ۔ ہما کے ابو پہلے تو بہت حیران ہوئے کہ اتنی صبح صبح یہ دونوں کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کارکو روک لیا اور باہر نکلے تو مٹھوا ورمینا کار کی چھت پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے پہلے سلام کیا ،پھر دونوں نے مل کر تمام واقعہ سنایا، یقین نہ کرنے والی بات تھی، مگر ہما کے ابو کو یقین کرنا پڑا، ہما کے ساتھی ہما جیسے بہادر ،نڈر، صاف گو اور سچائی پسند تھے۔ انہوں نے کار کو پولیس اسٹیشن کی طرف موڑ لیا ۔ جب انہوں نے مینا اور مٹھو کے ساتھ پولیس اسٹیش داخل ہو کر کہا کہ میرے ساتھ چند ساتھی روانہ کریں تو تمام پولیس والے ہنس پڑے۔

1 2 3 4

Leave a Comment

*