+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

ننھی ہما کے بہادر ساتھی

ایک دن ہما سکول سے واپس آرہی تھی کہ راستے میں اچانک کار رک گئی۔ ہما کو ڈرائیور ساتھ لے کر گھر روانہ ہوا تو راستہ میں ہما نے گدھے کا بچہ دیکھا۔ ہما بولی کہ میں تو یہ گدھے کا بچہ ساتھ لے کر ہی جاؤنگی ۔ ڈرائیور پریشان ہو گیا ۔ وہ گدھے کے مالک سے بولا۔ یہ بچی نہیں مانے گی ،تم ساتھ چلو، میرے مالک مسٹر حسین کا بنگلہ قریب ہی ہے ،گھر میں بیگم صاحبہ موجود ہونگی ، ان سے بات کر لینا ۔ گدھے کا مالک گدھے کو فروخت کرنے جا رہا تھا ۔ خوش ہو گیا کہ دور نہیں جانا پڑے گا ۔ وہ گدھے کے بچے کو ساتھ لے کرہما کے بنگلہ پر آیا اور جب ڈرائیور نے بیگم صاحبہ کوہما کے بارے میں بتایا کہ کیسے ضد کر کے گدھے کا بچہ لائی ہے تو وہ سر پکٹر کر بیٹھ گئیں۔ چاروناچار انہوں نے اجازت دے دی ۔ہما کوبیحد خوشی ہوئی ۔ گدھے کے بچے کا نام موتی رکھ دیاگیا ۔
جام، مٹھو اور مینا نے بھی موتی کو جلد ہی قبول کر لیا،بلکہ سب کی آپس میں اچھی خاصی دوستی ہو گئی ۔ ایک سال کے اندر ہما کے پاس اچھا خاصا چڑیا گھر بن گیا۔ ہما کے ابو نے اپنے لئے گھوڑا خرید ا جسکا نام بادل رکھ دیا گیامگر وہ بھی ہما کے ساتھیوں میں شمار ہونے لگا ۔ ہما کبھی موتی پر بیٹھ کر سیر کرتی تو کبھی باد ل پر۔ یوں وقت گزرنے لگا ۔ساتھ ہی ساتھ جانوروں اور پرندوں میں بھی اضافہ ہونے لگا ۔ ایک بکری بھی آگئی ، جس کا نام لالی رکھا۔ ایک مرغی، مرغا اور ساتھ میں پانچ عدد چوزے بھی آگئے تھے ۔ ہما کے ابو نے نوکر بھی رکھ دیئے تھے جو ان سب کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ہما کو سختی سے کہہ دیا تھاکہ اگر پڑھائی میں دل نہ لگایا تو تمام چڑیا گھر ختم کر دیا جائے گا۔ مگر ہما اپنا سکول کا ہوم ورک ویسے ہی کیا کرتی تھی۔فرق صرف یہ تھا کہ اب وہ مینا اور طوطے کے علاوہ باقی سب کو بھی پڑھاتی اور سمجھاتی تھی ۔ سب جانوروں میں بھرپور اتفاق تھا۔
ایک دن مینا اور طوطے میاں سیر کو گئے تو واپس آنے میں بہت دیر لگا دی۔ سردیوں کے دن تھے۔جوں جوں وقت گزرنے لگا ہما گھبرا گئی۔ہما کو پریشان دیکھ کر باقی سب بھی پریشان اور اداس ہو گئے،لیکن اتنے میں مٹھو اور مینا واپس آگئے ۔ ہما نے انہیں پیار بھری ڈانٹ دی کہ اتنی دیر کہاں لگا دی ،سب پریشان تھے۔ مٹھو اور مینا نے معافی مانگی اور سب کی محبت کا شکریہ ادا کیا ۔دونوں خوش تھے کہ سب ہمیں کتنا پیا رکرتے ہیں۔ مٹھو نے کہا کہ ہم گاؤں سے باہر درخت پر بیٹھے تھے توہم نے دیکھا کہ چند آدمی درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے پروگرام بنا رہے تھے کہ وہ ہمارے گھر پر ڈاکہ ڈالیں گے۔ ان لوگوں کی باتیں سننے کے لئے ہمیں دیر ہو گئی تھی۔
ہما کے ابو دوسرے شہر کام کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے ۔ گھر میں امی تھیں ، چند نوکر بھی چھٹی پر تھے ۔گھر میں ہما اور ہما کے ساتھی ،امی اور ایک بوڑھا نوکر ہی موجود تھا، ہما گھبرا گئی ۔ آئے دن اخبار اور ٹیلی ویژن پر ایسی وارداتوں کی خبریں دکھاتے رہتے تھے ۔ جن کے گھر واردات ہوتی انہیں مجرم مار ڈالتے تھے ۔ مٹھو اور مینا نے کہا ۔ ہما فکر نہ کرو ،ہم بھی اسی گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر ہمارا بھی ہے ۔ ہم سب ساتھی مل کرمقابلہ کریں گے اور انشا ء اللہ کامیاب ہونگے ۔ آج تمہارے ابو بھی واپس آرہے ہیں،مگر معلوم نہیں وہ کب تک واپس آئیں گے ۔ اگر خدا نے چاہا تو ہم سب سنبھال لیں گے ۔ ہما تم بھی خدا پر بھروسہ رکھو اور اندر سے تمام کھڑکیاں اور دروزاے بند کر کے سو جانا اور ہم سب کو آج آزادچھوڑ دینا ۔ انشا ء اللہ سب ٹھیک ہوگا۔
مینا نے کہا کہ امی کو مت کچھ کہنا ورنہ وہ پریشان ہو نگی۔ ہما مان گئی۔ ہما کے سب ساتھی بہادر بھی تھے اور سب میں اتفاق بھی تھا ۔ہما نے سب کو آزادکر دیا اور خود گھر کے تمام دروازے کھڑکیاں بند کرنے لگی۔ہما نے عشاء کی نماز پڑھی ، خدا سے دعا کی اور بیڈ پر چلی گئی۔ خدا سے خیر کی دعا کرتی کرتی جانے کب سو گئی ۔ ادھر سب ساتھیوں نے صلاح مشورہ کیا کہ جب چورآئیں تو ہم ان پر کیسے قابو پائیں گے۔ موتی جس طرح بھولا بھالا تھا اسکی رائے بھی بڑی اچھی تھی۔ سب نے موتی کی رائے سے اتفاق کیا اور پھر اپنی اپنی جگہ سب چوکس ہوکربیٹھ گئے ۔

1 2 3 4

Leave a Comment

*