+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

ننھی ہما کے بہادر ساتھی

شہر کے رہنے والے آدمی حسین نے شہر ی زندگی کو خیرباد کہہ کر دور دراز پرسکون مقام پر بنگلہ بنوایاکیونکہ شہر میں تو صاف ستھری ہوا بھی سانس لینے کو نہ ملتی تھی اورزندگی کاروں، بسوں اور فیکٹریوں کے دھوئیں سے بھری ہوئی گزرتی تھی۔لیکن اب تو گاؤں بھی شہروں میں شمار ہونے لگے ہیں۔بہت بھاگ دوڑکے بعد ایسی جگہ ملی جہاں زندگی پرانے وقتوں جیسی پُر سکون تھی ۔ سیدھاسادھا گاؤں تھا ،نہ شور نہ شرابہ۔ لوگ مہمان نواز تھے ، ایک دوسرے کو جانتے اور قدر کرتے تھے ۔ حسین اپنی سات سالہ بچی ہما اور اپنی بیوی کے ساتھ نئے بنگلے میں آگیا۔
یوں توگھر میں نوکرچاکرتھے مگر ہما کے ساتھ کھیل کود کرنے والا کوئی نہ تھا اورنہ ہی ہما کے بہن بھائی تھے ۔شہر میں ہما کے ساتھ ہمسایوں کے بچے کھیل لیتے تھے مگر یہ بنگلہ اکیلا تھا ۔ساتھ میں کوئی اور مکان نہ تھا۔چاروں طرف ہرے بھرے کھیت تھے۔ ہما جلدہی اداس ہوگئی۔وہ اپنے ابو سے کہنے لگی۔ ابو جان میں بہت اداس ہو جاتی ہوں اور اکیلے میرا دل نہیں لگتا ،آپ مجھے پرندے اور جانور لاد یں ۔ میں انہیں بنگلے کے پیچھے خالی جگہ میں رکھوں گی۔ پہلے تو ابونہ مانے مگر پھر اکلوتی ،لاڈلی بیٹی کی ضد اور اکیلا پن دیکھ کر مجبور ہو گئے ۔ انہوں نے گاؤں میں کہلوا دیاکہ ان کی بیٹی کو چند پالتو جانور چا ہئیں۔ چنانچہ جلد ہی پالتو جانور اور پرندوں کا بندوبست ہو گیا جن میں ایک اچھی نسل کا چھوٹا سا کتا، مینا اور طوطا شامل تھے۔
مینا اور طوطا گھر میں پہلے داخل ہوئے۔ایک بڑاسا خوبصورت پنجرہ بنوایا گیا جو گھر کے برآمدے میں رکھا گیا ۔ ہما بہت خوش تھی۔ ہر گھڑی انکی دیکھ بھال کر تی، اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی، پیار کرتی۔ چند روز میں دونوں ہماسے مانوس ہو گئے۔ صبح کو ہما اپنے ابو کے ساتھ شہر چلی جاتی کیونکہ ہما کا سکول شہر میں تھا۔ ہما سکول سے گھر آتی تو غسل کرتی ،کپڑے تبدیل کرتی ،کھانا خود بھی کھاتی، مینا اور طوطے کو بھی کھلاتی، پھر وہ اپنا ہوم ورک کرتی جو کہ طوطے اور مینا کو بھی یاد کرنے کو دیتی ۔آہستہ آہستہ مینا اور طوطے کو بھی بولنا آگیا۔ پہلے تو وہ رک رک کر بولا کرتے مگر چند ہفتوں کے بعد وہ بھی ہما کے ساتھ فر فرباتیں کرنے لگے۔ یوں چند مہینے گزر گئے تو مینا اور طوطے کا بولنے کا انداز بہترسے بہتر ہو نے لگا۔
ایک صبح جب ہما تیار ہو کر سکول جانے لگی تو مینا بڑی پیاری اور سریلی آواز میں بولی ۔Huma, have a good time in school مٹھو بھی بو ل پڑا We miss you very much ۔ ہما کے ابو بڑے حیران ہوئے اور خوش بھی ۔ انہوں نے ہما کو شاباش دی۔ ہر روز دونوں ہما سے باتیں کرتے اور ہما ان کو پیار کرتی ، اورسکول چلی جاتی۔ یوں وقت گزرنے لگا ۔ گاؤں کا ایک آدمی بہت پیارا لمبے بالوں والا کتالایا جو بہت موٹا تازہ تھا ۔ ہما نے اسکا نام جام رکھا۔ جام بہت شرارتی تھا۔ کبھی ہما کی کاپی چھپا دیتا توکبھی پینسل ۔ کبھی مینا کو تنگ کرتا اور کبھی طوطے کو۔ ہما کبھی کبھی جام کو سزا دے دیتی تو جام کو اپنی غلطی کا احسا س ہو جاتا۔ جام کی مینا اورطوطے کے ساتھ خوب دوستی ہو گی۔ جام انہیں سیر کرواتا اور ہما کے سکول جانے تک وہ سب باتیں کرتے رہتے ۔ہما صبح اٹھتی، نماز قرآن پڑھ کر جام کیساتھ واک کرتی ،مینا اور طوطے کو بھی آزاد چھوڑ دیتی ۔وہ بھی ہوا میں ساتھ ساتھ اُڑتے رہتے اور ادھر ادھر گھوم کر واپس آ تے تو ہما کو سارے گاؤں کی باتیں سناتے ۔

1 2 3 4

Leave a Comment

*