+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

میں کون،میرا نام کیا؟

کیایوں کے ایک طرف گھاس اُگی ہوئی تھی اور اُدھر چار، پانچ کتے کے بچے کھیل رہے تھے جو بہت پیارے لگ رہے تھے ۔ایک سفید رنگ کے پپی نے چوزے میاں کو دیکھ لیا اور وہ بھاگے چوزے میاں سے ملنے ۔ چوزے نے سہم کر پوچھا۔ آپ کون ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟ پپی نے کہا کہ میں پپی ہوں اور بڑا ہو کر میں اپنے ماں باپ کی طرح کھیتوں کی اور اپنے مالکوں کی حفاظت کروں گا۔ دن کو سویا کرونگا اور رات کو چوکیداری کرونگا۔ چوزے میاں بولے ۔مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور مجھے آپ کے بال بہت پسند آئے۔
چوزے میاں ذرا آگے ہی گئے تھے تو ان کی نظر گائے کے بچھڑے پر پڑی جو بھورے اور سفید رنگ کا تھا ۔وہ چوزے کو دیکھ رہا تھا۔ ایک بار پھر چوزے میاں ڈر گئے۔ بچھڑا ہنس پڑا اوربولا ۔پہلی مرتبہ مجھے دیکھ رہے ہو کیا ؟ چوزہ بولا۔ جی۔۔! ابھی ابھی دیکھا ہے اور بھائی تم کون ہو اور یہ تمہارے ساتھ کون ہے۔ گائے کا بچھڑا بولا۔ میں گائے کا بچہ ہوں اور بڑا ہو کر مجھے بیل کا روپ ملے گا۔ میں کھیتوں میں کام کرونگا اور بیل گاڑی چلانے کے کام آؤں گا۔میرے ساتھ میری بہن ہے۔ یہ بس دودھ دے گی۔ دودھ سے دہی، گھی، کھیر، مٹھائی، پنیر اور بہت ساسامان بنتا ہے۔ ہمارا گوشت کھانے کے کام آتا ہے اور ہماری کھالوں سے گرم کپڑے بنائے جاتے ہیں۔ چوزے میاں بولے۔ بچھڑے بھائی! آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ دیکھو وہ کون ہے، جو وہاں دانوں پر بیٹھا ہے؟ میں معلوم کرتا ہوں جا کر۔
چوزہ اس کے پاس پہنچااور بولا۔ تم کون ہو ؟اور کیا کر رہے ہو؟ چوہا جو مکئی کے دانے پر بیٹھا تھا بولا ۔ میں چوہا ہوں اورمیں چیزیں خراب کرتا ہوں۔ جو لوگ صفائی کا خیال نہ رکھیں، ان کے گھروں میں رہ کر انہیں بیمار کرتا ہوں ۔ چوزے میاں تو یہ سنتے ہی بھاگے ۔سامنے دیکھا ، کوئی بالکل سفید رنگ کی چیز بھاگی آرہی تھی تو یہ رک گئے۔جو چیز بھاگی آرہی تھی وہ بھی چوزے میاں کے قریب آکر رک گی۔ چوزے میاں کو یہ رنگ بہت بھلا لگا۔ وہ بولا۔ آپ کون ہو؟ آپ کا کیا نام ہے؟ تو وہ چیز ہنس پڑی اور بولی کہ میں دنبہ کا بچہ ہوں اور میرے بڑے فائدے ہیں۔ ہمارے جسم کے بالوں سے اون بنتی ہے اور اون سے سوئیٹر ،ٹوپیاں ،جیکٹ بنائے جاتے ہیں۔ گوشت کھانے کے کام آتا ہے اور کھال سے جوتے ،ٹوپیاں اورکوٹ بھی بنتے ہیں ۔چوزہ بے بی لیمب سے مل کر بہت خوش ہوا ۔
ساتھ ہی کچھ فاصلے پر گھوڑے کا بچہ کھیل رہا تھا۔ چوزے میاں بھاگے کہ اس سے ملوں ۔ چنانچہ چوزے میاں گئے اور بولے۔ ہیلو بھائی !تم کون ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟ گھوڑے کا بچہ غور سے چوزے میاں کو دیکھنے لگا ،پھر بولا ۔ میں گھوڑے کا بچہ ہوں۔ بڑا ہونے پر بوجھ اٹھاتا ہوں اور سواری کے کام بھی آتا ہوں۔ چوزے میاں بولے۔ آپ سے مل کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ۔

1 2 3

Leave a Comment

*