+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

میں کون،میرا نام کیا؟

ایک چھوٹا سا پیارا گول مٹول صاف ستھرا چوزہ اپنی امی کے ساتھ ڈربے سے باہر نکلا ۔ ماں نے کہا۔ دیکھو! زیادہ دور مت جانا اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہنا۔ مگر یہ بھولا بھالا چوزہ جو چند گھنٹے پہلے انڈے سے نکلا تھا ،اسے تو خدا کی بنائی ہوئی یہ کائنات دیکھنی تھی۔ کہاں وہ گھپ اندھیرے کے اندر تھا! اب جو ڈربے سے باہر قدم رکھا تو اسے آسمان ،بادل، سورج ،ہرے بھرے درخت اور لہلاتے ہوئے کھیت سب بہت بھلے لگے۔ چوزے کی امی کھیتوں کے پاس رہتی تھی ۔ پاس ہی بہت سے دیگر جانور اور دوسرے پرندے بھی تھے۔ چھوٹے سے چوزے میاں، جن کو ہر چیز پیاری لگ رہی تھی، سب کو دیکھنا اور چھونا چاہتے تھے۔ انکی نظر تالاب کے کنارے ایک اپنی جیسی چیز پر پڑی، مگر یہ کیا! اس کے تو پاؤں اور چونچ الگ قسم کی تھی۔ چوزہ اس کے پاس گیا اور اسے سلام کیا۔ معلوم کیا کہ وہ کون ہے ؟ اس نے کہا میں بطخ کا بچہ ہوں اور دو ہفتے پہلے خدا نے مجھے بھیجا ہے میرے پاؤں تم سے اس لیے الگ ہیں کہ میں پانی میں تیرتا ہوں اور چونچ سے مچھلیاں اور چھوٹے کیڑے مکوڑے، جو پانی کے اندر ہوتے ہیں ،پکڑ کر کھاتا ہوں۔ وہ دیکھو میرے امی، ابو، بہن اور بھائی پانی میں تیر رہے ہیں۔ چوزہ بولا مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور آگے بڑھ گیا۔
آگے پھولوں کی کیاریاں تھیں ۔چوزے میاں نے دیکھا کہ پھول کھلے بھی ہوئے تھے اور اُڑ بھی رہے تھے ۔وہ ایک اُڑنے والے پھول کے پاس گیا ۔ چوزہ بولا۔سلام قبول ہو پھول میاں، آپ اُڑ کیسے رہے ہو؟ تتلی پیارے پیارے بھولے بھالے چوزے کو دیکھ کر مسکرائی اور بولی۔ میں تتلی ہوں،پھول نہیں۔ اور یہ میرے رنگ برنگے پر ہیں۔ جن کی مدد سے میں اُڑتی پھِرتی ہوں۔ مجھے پھول بہت پسند ہیں ۔ چوزے میاں ان سے مل کر بھی بہت خوش ہوئے اور تتلی سے کہا کہ اسے اڑ کر دکھائے ۔تتلی نے اسے خدا حافظ کہا اور پھولوں کی طرف اُڑ گئی۔
چوزے میاں کو درخت کی شاخ پر کوئی ہلتا جُلتا نظر آیا۔ چوزے میاں گردن اونچی کر کے بولے۔ آپ کون ہو اور آپ کا نام کیا ہے؟ درخت پر بیٹھا طوطا بولا۔ میرا نام مٹھو ہے اور لوگ مجھے گھروں میں رکھتے ہیں، مجھ سے باتیں بھی کرتے ہیں۔ چوزہ بولا۔ مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔
اب چوزے میاں نے سر نیچے کیاتو اسے چھوٹا سا ڈونکی کا بچہ نظر آیا۔ چوزے میاں ڈر گئے اور لگے چھپنے پھولوں کی کیاریوں میں۔ گدھے کے بچے نے کہا۔ مجھ سے ڈرو مت اورباہر آجاؤ۔ میں تمہیں کچھ بھی نہ کہوں گا۔ میں ابھی چند گھنٹے پہلے دنیا میں آیا ہوں۔ چوزے میاں بولے ۔ چند گھنٹے ہوئے تم پیدا ہوئے ہو ،مگر تم توبہت بڑے ہو۔ بے بی ڈونکی نے کہا۔ خدا کی قدرت کا کمال ہے، جس کو جیسے پیداہونا ہو وہ ویسے ہی ہوگا۔ ادھر آؤ، یہ دیکھو ،یہ چیونٹی ہے۔ چوزہ میاں حیران ہوئے کہ اتنی چھوٹی سی چیونٹی اور گندم کا دانہ اٹھا ئے جا رہی تھی۔ جیسے چوزے میاں بے بی ڈونکی کو دیکھ کر ڈرے تو سوچنے لگے کہ کہیں یہ مجھے دیکھ کر نہ ڈر جائے، تو دوسری طرف سے باہر نکل آئے۔ نکلنے سے پہلے ڈونکی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اسے چیونٹی دکھائی۔

1 2 3

Leave a Comment

*