+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

چاند کا ڈائینوسار

وہاں سے شالا مار باغ، جلو پارک اور سوزو واٹر پارک گئے۔ پاس ہی ایک دوکان تھی جہاں سے ڈائینو سار نے سب کو قلفی کھلائی۔جب ڈائینو سار نے اپنی گردن نیچی کرکے دکاندار سے کہا کہ اسے 8 عدد قلفیاں چاہیں توبیچارا دکاندار، جو سارے دن کا حساب کرنے میں مشغول تھا،کے اوسان خطا ہو گئے۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایسا بھاگا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ بچوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔ انہوں نے پیسے کاؤنٹر پر رکھے۔ سب بچوں نے ایک ایک قلفی لی اور ایک ڈائینو سار بھی کھانے لگا۔ سب قلفیاں کھاتے ہوئے واپس گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ نواز شریف پارک گئے، جہاں پانی کا فوارہ تھا جو کافی اونچائی تک جاتا تھا۔ ڈائینو سار نے جی بھر کے پانی پیا۔ ماڈل ٹاؤن پارک سے ہوتے ہوئے سڑک پرآگئے ۔ سامنے سونو، کرن اور چاند کا سکول تھا۔ انہوں نے باہر سے ڈائینو سار کو اپنے اپنے کلاس روم دکھائے۔
وکی نے ڈائینو سارسے کہا۔ ” جب تم ملتان آؤ گے تو تمہیں ملتان کی سیر کروائیں گے اور اپنا سکول بھی دکھا ؤں گا۔” صبح کے آثارنظرآنے لگے تھے اور گھر بھی قریب تھا ۔ڈائینو سار نے اپنی گردن نیچی کی اور سب نیچے اتر گئے ۔سب نے ڈائینو سار کو پیار کیا اور سوچنے لگے کہ اب وہ کہاں جائے گا۔مگر دیکھتے ہی دیکھتے ڈائینو سار بالکل ویسا ہی ہوگیا جیساخالوکھلونے کی شکل میں لائے تھے۔ بچے اسے لے کر بیڈ روم میںآگئے اور جلدی جلدی بستروں میں گھس گئے۔ صبح اٹھ کر بچوں نے بڑوں کو سارا ماجرہ سنایاجو کہ بڑوں نے ہنس کر ٹال دیا۔
اُسی دن خالو پپو مسجد سے واپسی پردرزی کی دکان کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ اب وہا ں کوئی اور آ گیا ہے۔ انہوں نے جا کر درزی کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا نہائیت نیک مسافر بندہ تھااور کسی جگہ بھی بہت تھوڑے عرصہ کے لیئے قیام کرتا تھا۔خالو سوچ میں پڑ گئے اور گھر والو ں کو آ کر درزی کے بارے میں بتایاجسے سب نے ہنسی میں اڑا دیا۔ البتہ چاند خوش تھا کہ اس کی جیتا جاگتا ڈائینوسار دیکھنے کی خواہش پوری ہو گئی تھی۔ چاندکبھی کبھی ڈائینوسار کو لے کر گھنٹوں اپنے بستر پر بیٹھا رہتا مگر دوبارہ کبھی ڈائینوسارجیتی جاگتی صورت میں واپس نہیں آیا۔

1 2 3

Leave a Comment

*