+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

چاند کا ڈائینوسار

نومی نے چاند کے شوق کا یہ عالم دیکھاتوشام میں ڈائینو سارکی فلم لے آیا۔ سب نے فلم دیکھی۔ بچوں کو فلم بہت پسند آئی ۔ دوسرے دن سکول جانے سے پہلے چاند خالوسے بولا۔” آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے نا؟” خالو نے کہا۔” انشاء اللہ ،جب تم سکول سے آؤ گے تو تمہیں ڈائینو سارمل جائے گا۔” چاند کے سکول جانے کے بعد خالو درزی سے جا کر ڈائینو سار لے آئے۔ درزی نے خوب سلائی کی تھی کہ د یکھنے میں بالکل سچ مچ کا ڈائینو سار لگتا تھا ۔ڈائینو سار کوچاند کے بیڈ کے پاس رکھ دیاگیا ۔ چاند سکول سے واپس آیا تو اتنا بڑا ڈائینو سار دیکھ کر بہت خوش ہوا اور خالو ابو کا بیحد شکریہ ادا کیا۔
رات میں سب بچے اکٹھے ہو گئے اور دیر تک ڈائینو سار کی باتیں کرتے کرتے سو گئے۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ڈائینو سار میں جیسے جان پڑ گئی اور وہ چاند کو جگانے لگا۔ چاند اٹھا تو دیکھا کہ جیتا جاگتا ڈائینو سار بیڈ کے پاس کھڑا ہے۔ ڈائینو سارچاند سے بولا ۔”آؤ تمہیں باہر کی سیر کروا لاؤں۔” چاند جیتے جاگتے ڈائینو سار کو دیکھ کربیحد ڈرامگر آہستہ آہستہ اسکا ڈر جاتا رہا۔ وہ ڈائینوسارسے بولا۔ “میں اپنے بہن بھائیوں کو اٹھا لاؤں۔” ڈائینو سار کا قد اور جسامت آہستہ آہستہ بڑھنے لگے تھے اور اسکا سر چھت سے جا لگا تھا۔ ڈائینو سار بولا:” پہلے مجھے باہر لے چلو۔”
چاند نے اسے باغ کا راستہ دکھایااور خودچپکے سے سب بچوں کو جگانے لگا ۔بچے اُ ٹھے تو چاند انہیں باہرلے آیا۔ سب کے منہ حیرت کے مارے کھل گے ،کیونکہ ان سب کے سامنے جیتا جاگتا ڈائینو سار کھڑا تھا۔ نومی، مونو، کرن اور سونو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہے تھے۔ وکی اور حرا ڈرکے مارے رونے لگے ۔ ڈائینو سار انسانوں کی زبان میں باتیں کرنے لگا تو انہیں کچھ حوصلہ ہوا۔ چاند کی دیکھا دیکھی اوراسکے کہنے پر سب ڈائینو سارپر سوار ہوگئے جوانہیں لاہور کی سیر کروانے نکل پڑا ۔
رات کی چاندنی پھیلی ہوئی تھی اور ہرشے جیسے سنہرے رنگ میں چمک رہی تھی ۔ ڈائینو سار بھی بہت بڑا اور اونچا ہوگیا تھا ۔ بچے ڈائینو سار سے باتیں کرتے ہوئے سیر کررہے تھے۔ ڈائینو سار مال روڈ سے گزر رہا تھا ۔پاس سے گزرتے چندلوگ حیرت سے اسے دیکھ ر ہے تھے۔ان کے خیال میں شائید یہ ٹیکنالوجی کا کوئی نیا کرشمہ تھا۔ جب تک وہ غور کر تے ڈائینو سارلمبے قدم بھرتاہوا آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا۔ لوگ خواب سمجھتے اورسرہلا کر رہ جاتے۔ سب بچے خوشی سے جھوم رہے تھے اور شور مچا رہے تھے ۔ڈائینو سار کو بھی ٹھنڈی لمبی سڑکوں پر گھومنے کا مزہ آرہا تھا مگر راستے میں بجلی کے تار بیحد تنگ کر رہے تھے۔ کبھی تو جھک کر گزر جاتا ، کبھی بیچارہ تاروں میں الجھ جاتا۔اور جب انہیں پھلانگ کر پار کرتا تو بچے خوشی سے خوب شور مچاتے ۔
ڈائینو سار انہیں لے کر مقبرہ جہانگیر گیا ۔ نور جہاں کے مقبرے سے دریا ئے راوی گیا جسمیں میں بچوں کو سیر کروائی ۔پھر بارہ دری دکھائی۔ واپسی کے راستے راوی میں اتر گیا اور لمبا چکرلگا کر سب کو دریا میں سیر کروائی۔ پیر مکی اورداتا صاحب سلام کیا اوروہاں سے یاد گا ر پاکستان ،بادشاہی مسجد ،شاہی قلعہ اورگامے شاہ دیکھتے ہوئے سب چوبرجی آگئے۔وہاں سے با غ جناح، چڑیا گھر اور ایم ایم عالم کا جہاز دیکھتے ہوئے ائیر پورٹ پہنچ گئے ۔ سب بچے ڈائینو سار کی گردن پر چڑھ گئے ۔ رات کے دو کا ٹائم تھا اور کراچی سے فلائیٹ آرہی تھی۔ سب نے جہاز کو ایئر پورٹ پر اترتے دیکھا۔ ڈائینو سار بھی دو ٹانگوں پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔

1 2 3

Leave a Comment

*