+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

چاند کا ڈائینوسار

چاند بہت پیارا اورذہین بچہ تھا ۔اس کی دو بہنیں(سونو ، کرن) اورایک بھائی( مونو) تھا ۔ چاند نے فورتھ کلاس میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی تو سب نے اسے تحفے دئیے ۔ شہنشاہ نے لندن سے کتابوں کا سیٹ روانہ کیا، جس میں ڈائینوسارکی ایک کتاب تھی جوچاند کو بہت پسند آئی۔ وہ کتاب سکول لے گیا اوراپنی ٹیچر کو دکھائی۔چاند ڈائینو سارکے بارے میں مزیدجانناچاھتاتھا۔ٹیچرکو جتنا معلوم تھا سب کو بتادیا۔ چاند نے کتاب دوستوں کو دکھائی۔وہ بھی بہت خوش ہوئے۔چاندسکول سے واپسی پربہن بھائیوں سے ڈائینو سارکے بارے میں باتیں کرتا ر ہا۔گھر پہنچنے پر امی سے پہلی فرمائش کی کہ ڈائینوسارکی اور کتابیں لاکر دیں جو اردو اورانگلش دونوں زبانوں میں ہوں ۔
امی جان نے وعدہ کیا کہ چھٹی کے دن سب بچوں کو بازار لے جائیں گی ۔چھٹی کے دن سب بچے خوشی خوشی تیار ہوگئے ۔امی جان انہیں لے کر تمام بڑی دکانیں گھومیں مگر جیسی چاند چاہتا تھا، ویسی کتاب کہیں نظر نہ آئی۔ مال روڈ اور اردو بازارگئے تاکہ ڈائینو سارکے کھلونے ہی مل سکیں،مگر سب بے سود۔ چاند کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔واپسی کے راستے یکدم کچھ سوچ کر چہک اٹھا اور امی سے بولا کہ عجائب گھرلے چلیں ،شاید وہاں ڈائینوسار نظر آئے۔ امی جان نے گاڑی کا رخ عجائب گھر کی طرف موڑ دیا۔ بچوں نے عجائب گھر کی سیرکی اور پرانے زمانے کی نایاب چیزیں ،ہتھیار، بندوقیں ، تلواریں ، برتن ، ہاتھ سے لکھائی کیئے گئے قرآن پاک کے نسخے اورجنگ کا سامان دیکھا ، مگر چاند کو ڈائینو سارنظر نہ آیا۔
وہ عجائب گھر کے انچارج سے ملااور ڈائینو سارکے بارے معلوم کیاتووہ چاند کی باتیں سن کر ہنس پڑا اور بولا۔ “بیٹے! یہ بیسویں صدی ہے اور آنے والا وقت تمہارے ہاتھ میں ہے ۔خوب پڑھو ،لکھو اور قابل بنو ۔ اپنی قابلیت سے پرانے زمانے کے جانوروں کا عجائب گھر بناؤ۔ یورپ میں ہر چیز دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ اپنے ملک میں بھی توہو۔” چاند بہت اپ سیٹ ہوا اورواپسی کے راستے سوچتا رہا کہ کب ہم اور ہمارا ملک ایسے نایاب چیزوں کے عجائب گھر بنا ئے گا؟ چاند گھر واپس پہنچا تو چاند کی خالہ گلولو اور خالو پپو بچوں کیساتھ ملتان سے لاہور آئے ہوئے تھے۔ وکی، حرا اور چھوٹی سی سویٹی کے ساتھ نومی بھائی بھی تھے ۔ چاند بھاگا بھاگا بیڈ روم گیا، اپنی کتاب لا کر خالو ،خالہ اور نومی بھائی کو دکھائی ۔
خالہ گلولو نے کہا۔ “چاند! اس قسم کے جانوروں کی کہانیاں تمہاری نانی اماں سنایا کرتی تھیں ۔” چاند خالو سے کہنے لگا ۔ “دوسرے ممالک ترقی یافتہ ہیں ،کیونکہ وہ بچوں کا خیال رکھتے ہیں، انہیں ہر چیز کے بارے میں بتاتے ہیں، چاہے وہ لاکھوں سال پرانی ہی کیوں نہ ہو۔ مگر خالو ابو، ہمارا ملک ایسا کیوں نہیں ہے؟” خالو نے کہا۔ “میں صبح ڈھونڈ کر ڈائینو سارلا دونگا ۔” چاند خوش ہوگیا اور سب کو شب خیر کہہ کر بیڈ روم کی طرف چل پڑا ۔
صبح چاند اٹھا تو بہت خوش تھا کیونکہ آج خالو ،ڈائینو سارلا کر دینے والے تھے ۔ اس نے خالو کو وعدہ یاددلایا اور خوشی خوشی سکول چلا گیا ۔ خالو ٹاؤن شپ ، اچھرہ اور انار کلی گئے ۔مال روڈ اور لبرٹی مارکیٹ بھی گئے مگر ڈائینو سارنہ ملا۔ وہ مایوس ہو کر گھر آگئے ۔گھرپہنچے تو چاند ٹیوشن پڑھ رہا تھا ۔ خالہ نے اپنے میاں کو پریشان دیکھا تو بولیں۔ “ڈائینو ساروالی کتاب درزی کو دے آئیں اوراسے کہیں کہ ایسا ہی سلائی کر دو۔” خالو درزی کو کتاب دے آئے ۔ ٹیوشن کے بعدچاند خالو کے پاس آیا اور پوچھا ۔”میرا ڈائینو سارکہاں ہے؟” خالونے جوابدیا ۔”آرڈر دے دیا ہے ،انشاء اللہ کل مل جائے گا ۔”

1 2 3

Leave a Comment

*