+447504950603 info@shahinshah.com Cradley Heath West Midlands Birmingham UK

بدھو لڑکا

سرفراز ملتان میں رہتا تھا جو بزرگوں کا شہر ہے اور جس میں مشہور ہستیوں کے کافی مزار ہیں مگر ملتان کی گرمی بھی مشہور ہے۔ ایک گرمی ،دوسرا مٹی، ملتان کی مشہور سوغاتیں ہیں۔اگرلاہور سے ملتان آئیں تو اچھاخاصاانسان بھوت بن جاتا ہے۔ یہ کہانی بھی اسی علاقے کے لڑکے کی ہے جو آرام طلبی اور سستی میں مشہو ر تھا ۔ سرفراز کی اکلوتی بہن سیمی اور ماں لوگوں کے گھروں کا کام کرتی تھیں اور جو پیسے ملتے ان سے گزارہ ہوتاتھا۔ سیمی کے چھوٹے ہوتے ہی انکا باپ گزر گیا تھا۔ عزیز اور محلے والے بیحد سمجھاتے مگر سرفراز کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔وہ محنت مزدوری سے گھبراتا تھا۔
ایک دن ماں نے بہت سخت سست کہا تووہ گھر سے کام کی تلاش میں نکلا۔ صبح کا وقت تھا، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی تھی۔ وہ خیالی پلاؤ پکانے لگاکہ اگرمجھے نوکری مل گئی تو یہ کرونگا، وہ کرونگا۔انہی خیالوں میں گم چلا جا رہا تھا کہ ایک گزرتی ہوئی بھینس آکر سرفراز سے ٹکرائی۔ سرفراز نے ادھر ادھر دیکھا تو اس کے آس پاس کوئی دیکھنے والا نہ تھا۔ اس نے سوچا کہ خدانے میری فریاد سنی اور میری مدد کی ہے۔ اس نے بھینس کی رسی پکڑی اور گھر کی طرف چل پڑا۔ اتنی تندرست اور خوبصورت بھینس تھی کہ جو دیکھتا سرفراز سے معلوم کرتا کہ کتنے کی لی ہے۔ وہ ہنس کر کہتا کہ اللہ نے دی ہے ۔ پھر سوچوں میں کھو جاتا کہ بھینس کا دودھ خالص بیچونگا۔ پانی کی ملاوٹ بھی نہ کرونگا ۔ پیسے جمع کرتا جاؤنگا ، پھر اوربھینسیں لے لونگا اور فارم کھول لونگا۔ لوگ میری عزت کریں گے ۔ بہن کی شادی اچھے گھر کرونگا۔اپنے لیئے بنگلہ بنواؤ ں گا ۔ ماں کی خدمت کے لئے نوکر رکھو نگا۔ یہ سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ بھینس کا مالک بھینس کی تلاش کرتا ادھر آنکلاجس نے سرفراز کو برا بھلا کہا اور اپنی بھینس کو سرفراز سے واپس لے گیا۔ سرفراز کو پہلی مرتبہ صدمہ ہوا۔ بھینس اسکے ساتھ تھی تو کچھ لوگوں نے اس سے بات بھی کی تھی ۔آج پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا کہ اپنی چیز کی قدروقیمت ہی اور ہوتی ہے ۔ واقعی عمل کرنا چاہئے اورخیالی پلاؤ نہیں پکانا چاہئے۔ اس نے سوچاکہ اگر عمل کرونگاتو ہی ترقی کر پاؤں گا ۔
وہ بازار گیا، ایک چھڑی اور چند غبارے خریدے اور بچوں کے پارک لے گیا ۔ تین چارگھنٹوں میں اسکے تمام غبارے بک گئے۔خوشی خوشی پیسے لے کر گھر واپس آیا ۔ آج پہلی مرتبہ سرفرازنے اپنی محنت سے کمائی کی اور ماں کے ہاتھ پر پیسے رکھے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائی ۔ جب سرفراز نے بھینس کا واقعہ سنایا تو ماں نے کہا۔بیٹے، کبھی کسی کی چیز پر نظر نہ رکھو۔اگر ہمت ،لگن اور محنت سے حق ہلال کی کمائی کروگے توخدا بھی برکت ڈالے گا۔ سرفراز نے کہا۔ ماں تم مجھے معاف کردو ،پھر کبھی سستی نہ کرونگا اور نہ کبھی خیالی پلاؤ پکاؤنگا۔
ماں نے کہا۔ میں تمہاری بہن کے لئے پیسے جمع کر رہی ہوں تاکہ جب اسکی شادی ہو تو کام آئیں۔ اگر تمہیں چاہییں تو وہ پیسے لے لو۔ سرفراز نے کہا۔ نہیں ماں، اب میں اپنی قوت بازو سے کماؤں گا ۔ نہ سستی کرونگا نہ خیالی پلاؤ پکاؤنگا۔ یوں چند سالوں بعد سرفراز نے جو ماں سے کہا تھا وہ کر دکھایا۔بہن کی شادی اچھے گھر انے میں کر دی اور خود بھی ایک بڑے جنرل سٹور کا مالک بن گیا۔ ماں کی خدمت میں کوئی کمی نہ رکھی ۔ ماں نے اسکی شادی بھی اچھے گھرانے میں کردی اور سب مل جل کر پیار محبت سے رہنے لگے ۔

Leave a Comment

*